صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2 حدیث مرفوع مکررات 17 متفق علیہ 9
محمد بن مثنی، وہب، ہشام، محمد، معبد، ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم سفر میں ایک مقام پر تھے کہ ایک لونڈی نے آکر کہا کہ اس قوم کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہماری آبادی کے لوگ موجود نہیں ہیں، کیا تم میں کوئی منتر پڑھنے والا ہے ( چنانچہ ) ان کے ہمراہ ہم میں سے ایک شخص ہوگیا، جس کو ہم جانتے تھے کہ وہ منتر نہیں پڑھ سکتا، اس نے جا کر اس پر منتر پڑھا اور وہ شخص اچھا ہوگیا، اس نے ہمیں تیس بکریاں دیں اور ہمیں دودھ پلایا، جب وہ لوٹا تو ہم نے اس سے پوچھا کیا تو منتر اچھی طرح جانتا ہے یا تو منتر کرتا ہے، راوی کو شک ہے اس نے جواب دیا کہ میں نے کبھی منتر نہیں پڑھا میں نے صرف فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کی پھر ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر پوچھیں گے۔ مدینہ پہنچ کرہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ۔ کہ آپ نے فرمایا تمہیں کس چیز سے شبہ ہوا کہ یہ منتر ہے اس مال کو تم بانٹو اور مجھے بھی حصہ دو، معمر کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالوارث نے ان سے ہشام نے ان سے محمد بن سیرین نے حدیث بیان کی وہ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں۔
Comments
Post a Comment